تحریر: ثمن رباب رضوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
انسانی معاشرہ ہمیشہ سے فکری، مذہبی اور ثقافتی تنوع کا حامل رہا ہے۔ مختلف نظریات، عقائد اور افکار کا وجود ایک فطری امر ہے، لیکن ان اختلافات کو کس انداز سے سنبھالا جائے، یہی کسی معاشرے کی تہذیب، اخلاق اور فکری بلوغت کا معیار ہوتا ہے۔ اسلام نے اختلاف کو نفرت، تعصب اور دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے اسے حقیقت کی تلاش، علمی ارتقا اور باہمی احترام کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
اسی لیے قرآن کریم دعوت دیتا ہے:«﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾(سورۂ نحل، آیت 125)»
یعنی: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور لوگوں سے بہترین انداز میں گفتگو کرو۔"
رسول اکرم (ص) اور ائمۂ اہل بیتؑ نے اس قرآنی تعلیم کو اپنی عملی زندگی میں مجسم کیا۔ خصوصاً امام علی بن موسیٰ الرضاؑ کی سیرت اس اعتبار سے بے مثال ہے کہ آپؑ نے ایسے دور میں زندگی گزاری جب اسلامی دنیا سیاسی کشمکش، فکری اختلافات اور مختلف مذاہب و فلسفوں کے شدید علمی مباحث کا مرکز بن چکی تھی۔ عباسی خلیفہ مأمون کے دور میں مختلف ادیان اور مکاتبِ فکر کے علماء کے ساتھ ہونے والے امام رضاؑ کے مکالمات نہ صرف علمی اعتبار سے اہم ہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی پہلو سے بھی ایک مثالی نمونہ پیش کرتے ہیں۔
امام رضاؑ نے اپنے ہر مکالمے میں مخالف فریق کی عزتِ نفس کا خیال رکھا، اس کے عقائد کو سمجھا، پھر دلیل، حکمت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ آپؑ کی گفتگو کا مقصد کسی کو شکست دینا نہیں بلکہ حقیقت کو واضح کرنا اور انسانوں کو حق کی طرف رہنمائی کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے علماء نے آپؑ کے علم، حلم اور اخلاق کا اعتراف کیا۔
آج کے دور میں، جب سوشل میڈیا، مذہبی تعصب، شدت پسندی اور عدم برداشت نے معاشرتی فضا کو متاثر کیا ہے، امام رضاؑ کی ثقافتِ مکالمہ پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اگر اختلاف کو امام رضاؑ کے اسلوب کے مطابق حکمت، احترام اور دلیل کے ساتھ بیان کیا جائے تو بہت سے سماجی اور فکری تنازعات کا پرامن حل ممکن ہے۔
ثقافتِ مکالمہ کا مفہوم اور اسلامی بنیادیں
"مکالمہ" عربی زبان کے لفظ کلام سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں ایک دوسرے سے گفتگو کرنا، خیالات کا تبادلہ کرنا اور دلیل کے ذریعے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرنا۔ اسلامی تعلیمات میں مکالمہ صرف گفتگو کا نام نہیں بلکہ ایسا علمی و اخلاقی عمل ہے جس کا مقصد حق کی تلاش، باہمی احترام، غلط فہمیوں کا ازالہ اور معاشرے میں امن و ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر انبیائے کرامؑ کے مکالمات ذکر ہوئے ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ کا نمرود سے مکالمہ، حضرت موسیٰؑ کا فرعون سے خطاب اور رسول اکرم(ص) کے اہلِ کتاب سے مذاکرات اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام دلیل اور حکمت پر مبنی گفتگو کو پسند کرتا ہے۔
اہل بیتؑ کی تعلیمات میں بھی حسنِ اخلاق، تحمل، صبر اور احترام کے ساتھ گفتگو پر زور دیا گیا ہے۔ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:"کُونُوا دُعَاةً لِلنَّاسِ بِغَيْرِ أَلْسِنَتِكُمْ."یعنی: "لوگوں کو اپنے کردار کے ذریعے دعوت دو، صرف زبان سے نہیں۔"
یہ روایت اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ مؤثر مکالمہ صرف الفاظ سے نہیں بلکہ کردار، اخلاق اور حسنِ سلوک سے بھی ہوتا ہے۔
امام رضاؑ کی سیرت میں ثقافتِ مکالمہ
امام علی بن موسیٰ الرضاؑ کی شخصیت علم، حلم، بردباری اور وسعتِ نظر کا حسین امتزاج تھی۔ آپؑ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی اختلاف رکھنے والوں کو دشمن نہیں سمجھا بلکہ انہیں حقیقت تک پہنچانے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ جب مأمون عباسی نے مختلف مذاہب کے بڑے علماء کو مناظرے کے لیے جمع کیا تو امامؑ نے نہایت اطمینان، وقار اور مضبوط دلائل کے ساتھ ان کے سوالات کے جوابات دیے۔
آپؑ کا امتیاز یہ تھا کہ آپ ہر فریق سے اس کی اپنی علمی بنیادوں پر گفتگو فرماتے تھے۔ یہودی علماء سے تورات، عیسائی علماء سے انجیل، اور دیگر اہلِ علم سے ان کی معتبر علمی روایت کی روشنی میں استدلال کرتے تھے۔ اس انداز نے نہ صرف آپؑ کے غیر معمولی علمی مقام کو واضح کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ مؤثر مکالمہ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب مخاطب کے فکر و عقیدے کو سمجھ کر اس سے گفتگو کی جائے۔
امام رضاؑ کے مکالمات میں کبھی طنز، تحقیر یا سخت کلامی نہیں ملتی۔ آپؑ مخالف کی بات پوری توجہ سے سنتے، پھر نہایت سکون اور دلیل کے ساتھ جواب دیتے۔ یہی اخلاقی عظمت آپؑ کی دعوت کی کامیابی کا ایک اہم راز تھی۔
نتیجہ
امام علی بن موسیٰ الرضاؑ کی سیرت یہ درس دیتی ہے کہ اختلافِ رائے کسی معاشرے کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ عدم برداشت، تعصب اور بد اخلاقی اصل خطرہ ہیں۔ اگر مکالمہ علم، انصاف، حکمت اور احترام کی بنیاد پر کیا جائے تو اختلاف بھی معاشرے کی ترقی اور انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
آج جب دنیا مذہبی، فکری اور سماجی اختلافات سے دوچار ہے، امام رضاؑ کی سیرت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ حق کی دعوت دلیل، حسنِ اخلاق، تحمل اور انسان دوستی کے ذریعے ہی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ یہی ثقافتِ مکالمہ ایک پُرامن، مہذب اور متحد معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم امام رضاؑ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنائیں تاکہ اختلاف کو نفرت کے بجائے باہمی احترام اور اصلاح کا ذریعہ بنایا جا سکے۔
حوالہ جات
1. قرآنِ کریم
2. شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا
3. شیخ طبرسی، الاحتجاج
4. علامہ مجلسی، بحار الأنوار، جلد 49
5. شیخ مفید، الإرشاد
6. باقر شریف قرشی، حیاة الإمام الرضا علیہ السلام









آپ کا تبصرہ